اشاعتیں

جون, 2020 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مسجد قاضی والی مسجد

تصویر
آج ایسی کتنی مساجد ہیں جو غیرآباد ہیں انہی مساجد میں سے ایک مسجد  قاضی والی مسجد ہے. کبھی دوجانہ ریاست ہوا کرتی تھی اسی ریاست کے اندر قاضی والی مسجد موجود ہے جیسا کے بتایا جاتا ہے یہ دو سو سال قدیم مسجد ہے اور ہریانہ کی تاریخ میں یہ مسجد  بہت اہمیت کی  حامل ہے اور اس مسجد کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے جاتے ہیں لیکن اب وہ مسجد ایسی خستہ حالت پر ہے کہ اس کی در و دیوار  میں دراڑیں آچکی ہیں  ہمیشہ گرجانے کا خوف  رہتا ہے  لیکن سرکار نے کبھی اس پر توجہ نہ دی وہاں کے لوگوں نے کافی کوشش کی تھی  لیکن یہ تاریخی ورثہ اب ختم ہونے کے قریب ہے لیکن اب بھی وقت ہے کہ اس کو بچایا جاسکتا ہے یہ قاضی والی مسجد دوجانہ شہر ضلع جھجھر  صوبہ ہریانہ میں اپنی بے بسی کا رونا رو رہی ہے👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇 https://youtu.be/Aqbn05wEwbQ توصیف الحسن میواتی الہندی  ہیڈ ایڈمن بول ٹی وی میوات  (. یوٹیوب فیسبک پیچ اینڈ ٹیلیگرام ٹیوٹر .)

مسجد ضلع گروگرام کے بھونڈسی کے قریب

تصویر
آج جب ہم دنیا کی رنگینیوں میں خوش وخرم ومست و مگن ہیں  وہیں آج ہماری نا اہلی و خستہ حالی کا شکوہ رب العلمین کی بارگاہ میں  قدیم مسجدیں کرتی نظر آتی ہیں  اور جب ہم دیکھتے ہیں کتنی ایسی مساجد ہیں جو اپنی بے بسی کا رونا روتی ہیں  انہی میں سے ایک مسجد ضلع گروگرام کے بھونڈسی کے قریب س امل گاؤں میں ہے لیکن یہ تاریخی ورثہ اب ختم ہونے کے قریب ہے لیکن اب بھی وقت ہے کہ اس کو بچایا جاسکتا👇👇👇 https://youtu.be/VfoKFZBRAQo توصیف الحسن میواتی الہندی  ہیڈ ایڈمن بول ٹی وی میوات  (. یوٹیوب فیسبک پیچ اینڈ ٹیلیگرام ٹیوٹر .)

मस्जिद किला काेहो ना

تصویر
मस्जिद किला काेहो ना  दिल्ली के पुराने किले में एक खूबसूरत मस्जिद मौजूद है जिसको मस्जिद किला काेहोना कहा जाता है इस मस्जिद को 1541 में शेरशाह सूरी ने तामीर करवाया था यह तामीरी एतबार से काफी दिलकश मस्जिद है  पुराने किले की यह मस्जिद तकरीबन 15 मीटर चौड़ी और साडे 51 मीटर लंबी है इस में तकरीबन 800 अफराध के नमाज अदा करने की गुंजाइश है इस मस्जिद में 5 दरवाजे हैं हर दरवाजा अपने तौर पर मस्जिद के खूबसूरत और आलीशान हाल में खुलते है  लेकिन अब जो हाल है वह यह है के मस्जिद की इमारत रफ्ता रफ्ता खत्म होती जा रही है मरम्मत की सख्त जरूरत है सारे गंदे कामों की इजाजत है अगर इजाजत नहीं है तो सिर्फ नमाज की नहीं है सिक्योरिटी के अफराध  भी  तासूब पसंद है ऐसा महसूस होता है कि उन्हें ऊपर से खामोश हिदायत है कि किसी भी सूरत में नमाज पढ़ने नहीं देना है सिक्योरिटी वाले  टूरिस्ट और आम लोगों को जूते चप्पल पहन कर आने से  मना नहीं करते  पुराने किले की सबसे ज्यादा  खूबसूरत  इमारत जामा मस्जिद है जिसको आज मस्जिदे कोहना कहा जाता 👇👇👇 https://youtu.be/e-a_rdpsGDI  अल ...

سجد اقصی کی مختصر تاریخ و تعارف

سجد اقصی کی مختصر تاریخ و تعارف مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف(عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقییروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے... حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔ قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے... ”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)“ احادیث کے مطابق دنیا م...

حضرت مولانا شاہ عبد القادررائے پوری رح* یادیں اور باتیں

. *حضرت مولانا شاہ عبد القادررائے پوری رح* یادیں اور باتیں  از *حضرت میاں جی محمدفاروق خان میواتی* خلیفۂ مجاز حضرت مولانا سیداسعدمدنی(بھنگوہ,میوات) ✍🏻توصیف الحسن میواتی  ہم اہل میوات نسل درنسل اپنےھادی ومربی,مخدوم ومحسن حضرت جی مولانا محمد الیاس کاندھلوی پردل وجان سےفدا تھے,ہیں اور ہمیشہ فدارہیں گے,میوات کےہرہر فرد کی زبان پراُن کاچرچا رہتا تھااورآج بھی ہے,ہمارے حضرت جی اپنے معاصراکابر میں دوبزرگوں کو بہت چاہتےتھے,ان کابہت اکرام و احترام کرتے اوران کا بےحد محبت سے ذکر خیرکرتے تھے,انہوں نےان بزرگوں کی یہ محبت اہل میوات کےدلوں میں بھی راسخ کردی تھی, یہ دوبزرگ:  1)شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدمدنی اور 2)قطب الارشاد حضرت مولاناشاہ عبدالقاد ررائےپوری تھے-رحمہم اللّہ تعالیٰ.  اس لیےاہل میوات حضرت جی کی طرح ان دونوں اہل اللّہ کودل وجان سے چاہتے تھے,دونوں بزرگوں نےبارہا میوات کےدورے کیے,کئی کئی روز میوات میں قیام فرمایا,ان بزرگوں کے آستانوں پر میواتیوں کاانفرادی اورقافلوں کی صورت میں بہت کثرت سےآناجانا تھا,دونوں بزرگوں نے میوات کےپانچ سالکینِ تصوف کوخلافتوں سےبھی مش...